عدل و انصاف کی اہمیت

 

عدل۔؟

عدل کے معنی
کسی چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا
انصاف کے معنی برابر ہونے کی ہیں جیسے کسی کو کو کسی لڑکے اور لڑکی کو برابر چیز دینا


اللہ تعالی نے فرمایا!

ترجمہ ۔

” بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا”

جہاں عدل نہیں ہوگا تو ظلم ہوگا اور جب انصاف نہیں ہوگا تو ظلم پھلے گا

اص

عدل انصاف جہاں نہیں ہوتا اس زمین پر امن قائم نہیں ہوسکتا  لوگوں کو حق ملنا اتنا مشکل ہو جاتا ہے لوگ ایک دوسرے کی حق تلفی کرتے ہیں

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

ظلم

 قیامت کے دن ظلمات اندھیر وکی وجہ بنے گا بننے والا ہوگا۔

کتنا ظلم؟

پیلو کی لکڑی کے برابر بھی ظلم کرو تو تم جہنم میںجاؤ گے

عدل و انصاف کا واقعہ۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے  بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا  قبیلہ والوں نے حضرت اسامہ بن زید کو سفارش کے لئے آپ صل وسلم کے پاس بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے فرمایا!

کہ تم سے پہلے لوگ بھی چھوٹوں پر ظلم کرتے تھے اور بڑوں کو چھوڑ دیتے تھے خدا کی قسم اگر اس کی جگہ فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں یہی حکم دیتا۔

اس وقت کیسے ہمیں باخوبی عدل و انصاف کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے

ایک اور حدیث میں ہے۔

قیامت کے دن جب خدا کے عرش کے سائے کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا تو سات لوگوں کو اللہ تعالی سائے میں جگہ دیں گے جس میں سے ایک عادل حکمران ہوگا

 

اسکو بھی پڑھیں 
ایک اور حدیث میں ہے۔

۔تقرجمہ

جو کوئی اپنے اہل و عیال اور مرد دونوں کے ساتھ عدل و انصاف کرتے ہیں  وہ خدا کی ہاں نور کے ممبروں پر جلوہ گر ہوں گے

ایک اور حدیث میں ہے۔

جو شخص مسلمانوں کا حکمران ہوا اور اس نے ان کے ساتھ خیانت کی اور وہ اس حال میں مر گیا تو اللہ تعالی اس پر جنت حرام کر دیں گے

واقعہ۔
میں آپ کو ایک اور واقعہ بتاتی ہوں عدل و انصاف

ایک بار کا ذکر ہے حضرت رضی اللہ عنہ اور یہودی کا جھگڑا ہوا اس نے حضرت علی  کی ذرہ کو اپنی زرہ  ‘

کہہ رہا تھا اور جھوٹ بول رہاتھا معاملہ عدالت میں گیا قاضی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ آپ گواہ پیش کریں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو پیش کیا اور ایک غلام کو پیش کیا قاضی نے کہا کہ ان دونوں کی گواہی نہیں مانی جائے گی آپ کوئی اور گواہ پیش کریں لہذا

 حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو پیش نہ کرسکے تو قاضی نے فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔

 یہودی  پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے حضرت علی رضی  اللہ تعالی عنہ واپس کردیں اور مسلمان ہو گیا۔

حضرت علی نے وہ زرہ یہودی کو بطور تحفہ دے دی۔

.ایک حدیث میں ہے

 عادل سلطان زمین پر  اللہ کا سایہ ہے

قرآن پاک میں ہے

ترجمہ۔

 عدل کرو یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے بے شک اللہ خبر رکھنے والا ہے جو تم عمل کرتے ہو۔

دشمنوں کے معاملے میں بھی عدل کا حکم ہے وہاں بھی انصاف کاحکم ہے

ایک اور جگہ اللہ تعالی نےفرمایا

ترجمہ۔

انصاف سے کام لو بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کے ساتھ ہے
انصاف محبت الٰہی کا ذریعہ ہے۔

عدل و انصاف کے فوائد۔

ظالم کا خاتمہ۔

ترقی اور خوشحالی کا نظریہ۔

یہ حصول تقوی۔

حصول جنت۔

پر امن معاشرے کا قیام

 باہمی اعتماد اور بائمی  وقار ۔

 احکام میں احکامات الہی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک یہودی کا ایک مسلمان کے ساتھ جھگڑا ہوا وہ فیصلہ لے کر  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں دیا کیونکہ وہ حق پر تھا مسلمان یہ فیصلہ کر دوبارہ

 حضرت عمر کے پاس لیکر گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ  کو جب  پتہ چلا  کہ وہ آپ  کے فیصلے کے بعد یہاں آیا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تلوار نکالی اور اس کو قتل کر دیا۔

اس واقعہ سے بھی ہمیں عدل و انصاف کا حکم ملتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے بہت زیادہ عدل و انصاف پر زور دیا ہے۔

مسلمانوں کو بھی یہی چاہیے  کہ عدل و انصاف کریں ۔

مجھ سے رابطہ کےلیے

Total
0
Shares
1 comment
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Previous Post

زکوٰۃ

Next Post

اخلاق حسنہ

Related Posts