حیا اور ایمان۔

!السلام و علیکم

آپ سب اللہ سے دعا ہے کہ اللہ آپ کو خیریت سے رکھے۔۔ہااج میں جس موضوع پہ لکھ رہی ہوں

وہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔اس کے بغیر ہمارا ایمان نامکمل ہے۔

حیا اور ایمان۔

حدیث شریف میں بیان ہے۔

“حیا اور ایمان آپس میں لازم و ملزوم ہیں ہیں جب ایک جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے”

دوسری حدیث میں ہہے۔
ترجمہ۔
“جب تم حیا کھو دو تو جو چاہو کرو”

گویا حیا اصل میں انسان کے ضمیر کی وہ آواز ہے ٫جو اسے برے کام کرنے سے روکتی ہے.

اسی کو قرآن مجید کے اندر ہر “نفس لوامہ “کہا گیا ہے.
جو انسان کو غلط نعت عام کرنے سے پہلے روکتا ہے۔

اور اگر غلطی سے ہو جائے تو اس پر ندامت دلاتا ہے۔
اور بندہ پشیمان ہو کر توبہ کر لیتا ہے ۔

لیکن جب انسان اپنے اندر کی آواز نہیں سنتا اور غلط کام کر لیتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے ہے۔

گویا اس کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے اور اب وہ اپنے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگتا ہے۔

اس کفیت کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کئی جگہ پر فرمایا ہے۔
” سورت کہف” کی اخری آیات میں اس کا پورا بیان ہے۔
ترجمہ۔

“کیا میں تم کو خبر دوں ایسے لوگوں کی جن گے اعمال دنیا میں ہی ضائع ھو گے اور وہ سمجھتے ہیں کے انہوں نے نیکی کے کام کیے ہیں”

ہمارے معاشرے میں حیا کو خاص طور پر فحاشی سے مختص کیا جاتا ہے ۔

یعنی فحاش ور بے پردگی وغیرہ کو بے حیائی سے تعبیر کیا گیا ہے

جتنے بھی معاشرے کو بگاڑنے والے کام ہیں مثلا عریانی٫ذنا کاری ٫شراب اور جوا وغیرہ سب بے حیائی ہے۔یہ تمام ایسے افعال ہیں،

جو انسان کو انسانیت کی کی سطح سے نیچے گرا کر گناہ گار اور دوزخی بنا دیتے ہیں

افسوس کےمسلم معاشرے میں  جس میں یہ باتیں کبیرا گناہ کے زمرے میں آتی ہیں۔

محض اپنے اندر کی احساس کمتری کے باعث   ابلیس کی تقلید کر کے بےحیائی اورفحاشی کو کلچر بنا لیا گیا ہے۔

اور دن بدن اس میں اضافہ ہورہا ہے خاص طور پر یہ سب کچھ پاکستان میں طوفانی لہر کی طرح آیا ،

اور اس نے سب کو اپنی لپیٹ میں اس طرح لیا کہ ایمان بچانا مشکل ہو گیا ہے۔

افسوس تو یہ ہے کہ پورا معاشرہ نہ اس کی لپیٹ میں آگیا ہے اور پھر اس پر فخر بھی ہے۔

!بقول اقبال

” واۓ ناکامی متائے کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا”

اب تو یہ حال ہے کہ مسلم امہ خاص طور پر پاکستانی عوام پر جو امرضی مصیبت کو ٹٹوٹ پڑے ٫جو چاہے عذاب آ جائے اس کا ضمیر مردہ ہی رہتا ہے.

احساس ندامت ںلکل نہیں ہوتا لہٰذا توبہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے اس قدر ہرو رو کر دعائیں نہ کی ہوتی تو آج ہم کب کے یہاں تو ت صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہوتے یا نشان عبرت بن کر زندگی گزار رہے ہوتے۔
لکین!

“کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
کے دم سے قائم زندگی ہے”

اللہ سے دعا ہے کہ ہماری قوم کو قوم یونس علیہ اسلام کی قبل از عزاب انفرادی اور اجتماعی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔

اسکو بھی پڑھیں

اور ہمارے معاشرے سے بے حیائی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سب کاموں کو ختم کر کے ہمیں سچا مسلمان اور ابھا انسان بنائے۔

ورنہ وہ دن دور نہیں ہے کہ!

بقول قبال!

“تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہخودکشی کرے

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا۔”

بے حیائی کے نقصانات۔

ایمان ختم ہو جاتا۔

اچھے اور برے کی تمیز نہیں رہتی ۔

انسانیت ختم ہو جاتی ہے۔

معاشرے میں عزت نہیں رہتی ۔

گناہ کا مرتکب۔

اللہ کی رحمت سے دوری۔

جہنم میں جانے والا عمل۔

اللہ کی ناراضگی ۔

اوا بہت سے نقصانات ہیں۔

حیا کی بہت زیادہ فضیلت ہے ہے دین میں بھی اور دنیا  میں بھی اللہ ہمیں حیاء دار بنائے۔امین۔

مجھ سے رابطہ کےلیے

Total
0
Shares
1 comment
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Previous Post

اخلاق حسنہ

Next Post

جڑی بوٹیاں اور انکے فوائد

Related Posts