سو اونٹوں کاواقعہ ۔

واقعہ۔

زم زم کی کھدائی کے وقت حضرت عبدالمطلب نےمنت مانگی تھی

اس منت کے نتیجے میں سو اونٹوں کی قربانی دی تھی،

اسکا پورا واقعہ آپ سب کے لیے بیان کر رہی ہوں

عنوان: *سو اونٹوں کی قربانی*

حضرت عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا جب وہ اپنی منّت بھول چکے تھے –

پہلے خواب میں ان سے کہا گیا ”

منّت پوری کرو ” انھوں نے ایک مینڈھا ذبح کرکے غریبوں کو کھلادیا “

پھر خواب آیا ” اس سے بڑی پیش کرو ”

اس مرتبہ انھوں نے ایک بیل ذبح کردیا –

خواب میں پھر یہی کہا گیا اس سے بھی بڑی پیش کرو –

اب انھوں نے اونٹ ذبح کیا –

پھر خواب آیا اس سے بھی بڑی چیز پیش کرو –

انھوں نے پوچھا ” اس سے بھی بڑی چیز کیا ہے ” تب کہا گیا :

” اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منّت مانی تھی “

Part 1 parhiye.

اب انھیں اپنی منّت یاد آئی – اپنے بیٹوں کو جمع کیا – ان سے منّت کا ذکر کیا –

سب کے سر جھُک گئے ” کون خود کو ذبح کرواتا.

” آخر عبداللہ بولے
” ابّاجان آپ مجھے ذبح کردیں ”
یہ سب سے چھوٹے تھے –

سب سے خوبصورت تھے – سب سے ذیادہ محبّت بھی عبدالمطلِّب کو انہیں سے تھی.

لہٰذا انھوں نے قرعہ اندازی کرنے کا ارادہ کیا –

تمام بیٹوں کے نام لکھکر قرعہ ڈالا گیا – عبداللہ کا نام نکلا اب انھوں نے چُھری لی,

” عبداللہ کو بازو سے پکڑا اور انھیں ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹادیا۔

جونہی باپ نے بیٹے کو لٹایا ” عبّاس سے ضبط نہ ہوسکا, فوراً آگے بڑھے اور,

بھائی کو کھینچ لیا ” اس وقت یہ خود بھی چھوٹے سے تھے ” ادھر باپ نے عبداللہ کو کھینچا ”

اس کھینچا تانی میں عبداللہ کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں ”

ان خراشوں کے نشانات مرتے دم تک باقی رہے –

اسی دوران بنو مخزوم کے لوگ آگئے انھوں نے کہا :

آپ اس طرح بیٹے کو ذبح نہ کریں , اس کی ماں کی زندگی خراب ہوجائے گی,

“اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بیٹے کا فدیہ دے دیں ”

اب سوال یہ تھا کہ فدیہ کیا دیا جائے, اس کی ترکیب یہ بتائی گئی,

واقعہ۔

کہ کاغذ کے ایک کاغذ پر دس اونٹ لکھے جائیں , دوسرے پر عبداللہ کا نام لکھا جائے,

اگر دس اونٹ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ قربان کردئے جائیں ,

اگر عبداللہ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ کا اضافہ کردیا جائے.

– پھر بیِس اونٹ والی پرچی اور عبداللہ والی پرچی ڈالی جائے –

اب اگر بیِس اونٹ والی پرچی نکلے تو بیِس اونٹ قربان کردئے جائیں ,
ورنہ دس اونٹ اور بڑھادئیے جائیں ,

اس طرح دس دس کرکے اونٹ بڑھاتے جائیں –
عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا ہے ”

دس دس اونٹ بڑھاتے چلے گئے ” ہر بار عبداللہ کا نام نکلتا چلا گیا ,

یہاں تک اونٹوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی – تب کہیں جاکر اونٹوں والی پرچی نکلی –

اس طرح ان کی جان کے بدلے سو اونٹ قربان کئیے گئے –

عبدالمطلب کو اب پورا اطمینان ہوگیا کہ,

اللہ تعالٰی نے عبداللہ کے بدلہ سو اونٹوں کی قربانی منظور کرلی ہے.

– انھوں نے کعبے کے پاس سو اونٹ قربان کئیے,

اور کسی کو کھانے سے نہ روکا ” سب انسانوں , جانوروں اور پرندوں نے ان کو کھایا –

امام زہری کہتے ہیں کہ:-

عبدالمطلِّب پہلے آدمی ہے جنہوں نے آدمی کی جان کی قیمت سو اونٹ دینے کا طریقہ شروع کیا –

اس سے پہلے دس اونٹ دیے جاتے تھے – اس کے بعد یہ طریقہ سارے عرب میں جاری ہوگیا –

گویا قانون بن گیا کہ آدمی کا فدیہ سو اونٹ ہے.

– نبی کریم ﷺ کے سامنے,

جب یہ ذکر آیا تو آپ نے اس فدیہ کی تصدیق فرمائی، یعنی فرمایا کہ یہ درست ہے,

اور اسی بنیاد پر نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :

میں دو ذبیحوں یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت عبداللہ کی اولاد ہوں..

امید ہے آپ کو میری انفارمیشن ضرور پسند آئے گی؟

جزاک اللہ۔۔

رابطے کے لیے 

Total
0
Shares
8 comments
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Previous Post

قرآن پاک کا خلاصہ (ا تا5 )سپارے پارٹ ون

Next Post

جمعہ کی فضیلت ۔

Related Posts