لیلتہ القدر اور اسکی فضیلت

اسلام علیکم۔

کیسے ہیں آپ سب ؟

امید ہے آپ خیریت سے ہونگے؟

جیسا کے آج ات سے رمضان کے آخری عشرے کا آغاز ہو چکا ہے

اس عشرے میں 5 راتیں ایسی ہیں جنکی بہت فضیلت ہے،

21,23,25,27 ,29

اب میں آپ کو بتاوں گی لیلتہ القدر کے بارے میں۔

.تعریف

ایسی بابرکت رات ہے جسکی ایک رات کی عبادت کا ثواب 83 برس 4 مہینے جتنا ہے،

لیلۃ القدر کی فضیلت کا بیان۔

1. اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَیْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَo

(الدخان، 44: 3)

’’بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اُتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔‘‘

2. اِنَّآ اَنْزَلَنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِo وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِo لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شهرo تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ج مِّنْ کُلِّ اَمْرٍo سَلٰمٌ قف هِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِo

(القدر، 97: 1-5)

’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں
(کہ) شبِ قدر کیا ہے؟

شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔ یہ (رات) طلوعِ فجر تک۔

پوری سورت لیلتہ القدر کے بارے میں نازل ہوئی،پ

۔اس رات کی برکت ہے ک قرآن پاک اس رات میں نازل ہوا۔

احادہث میں لیلتہ القدر کی فضیلت۔

’’حضرت ابوہرہ بیان کرتے ہیں کہ،
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،

جو شخص لیلۃ القدر میں قیام کرے اور اس کو پا لے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے
کہ ابو ہریرہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے۔‘‘

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے،
فرماتی ہیں کہ،

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ
بتائیے اگر مجھے شب قدر معلوم ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو:

’’اَللّٰهُمَّ إِنَّکَ عُفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي‘‘ (یا اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا کریم ہے، عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔‘‘

تمہارے پاس رمضان المبارک کا مہینہ آیا۔ اللہ تعالیٰ نے

اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں،

اورسرکش و شریر شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس ماہ میں،

ایک ایسی رات ہے جو ہزار راتوں سے افضل اور بہتر ہے،

، جو اس (رات) کی خیرات و برکات سے محروم کر دیا گیا وہ (ہر خیر سے) محروم کر دیا گیا۔‘‘

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

جب ماہ رمضان آیا تو،
!حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

یہ جو مہینہ تم پر آ گیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے،
جو شخص اس رات کی خیرات و برکات سے محروم کر دیا گیا،

وہ گویا تمام خیر سے محروم کر دیا گیا اور اس رات کی خیرات و برکات سے محروم،

صرف وہی شخص کیا جاتا ہے جو (اصلاً ہر خیر سے) محروم ہو۔‘‘

’’حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ثقہ (یعنی قابل اعتماد) اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا،

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ،

سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں یا اس بارے میں جو اﷲ تعالیٰ نے چاہا دکھایا،

تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کی عمروں کو چھوٹا خیال فرمایا کہ وہ کم عمروں کی وجہ سے،

اس قدر کثیر اعمال نہ کر سکیں گے جس قدر دیگر امتوں کے افراد اپنی طوالتِ عمری کی وجہ سے کر پائیں گے تو،

اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شبِ قدر عطا فرما دی جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے۔‘‘

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر میری امت ہی کو عطا کی ہے ان سے پہلے کسی امت کو یہ نہیں ملی۔‘‘

’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا:

یا رسول اﷲ! ہمیں شبِ قدر کے بارے میں بتائیں,

تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

یہ (رات) ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے۔ اس رات کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔

بے شک یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں میں سے کوئی ایک یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔

جو بندہ اس میں ایمان و ثواب کے ارادہ سے قیام کرے اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ,

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا،

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
✨ *مجھے شب قدر خواب میں دکھائی گئی لیکن پھر مجھ سے بھلا دی گئی،

لہٰذا تم اسے رمضان کے آخری عشرہ ( دہے ) کی طاق راتوں میں ڈھونڈھو*

سنن ابن ماجہ

🌟 *طاق راتوں کےاعمال*🌟

جاۓ نماز پر قبلہ رو ہو کر پوری توجہ اور یکسوئی کیساتھ پڑھیں۔

🌟 *تسبیحات*🌟

🔹ایک تسبیح استغفار.

🔹ایک تسبیح درود شریف.

🔹ایک تسبیح کلمہ طیبہ.
*لَا الٰه الّا اللّٰه.

🔹ایک تسبیح دعاۓ لیلۃ القدر
*اللّٰھُمَّ اِنَّک َعَفُوٌّ کَرِیم ٌتُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی.*

🔹ایک تسبیح.
*لا الٰه الّا اللّٰه نَستغفرُاللّٰه نسْأَلُکَ الْجَنّةَ وَنعُوذُبِکَ مِنَ النّار*.

🌟 *نوافل*🌟

1.🔹دو رکعات نفل کے بعد اس پرفتن دور میں اپنی اور اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کے لیے ادا کریں,

اس دعا کے ساتھ کہ اللہ نے ایمان پر زندگی دی تو ایمان پر موت بھی عطا فرمائیں.

2.🔹 *دو رکعات نماز صلوة التوبہ*

ایک ایک گناہ ،جو جان بوجھ کر کیے جو ان جانے میں کیے جو آئندہ کریں گے۔

انکو یاد کر کر کے توبہ اور استغفار کریں ۔اور آئندہ ان گناھوں سے بچنے کی توفیق مانگیں۔

اوراللہ سے دعا کریں کہ تمام اخلاقی برائیاں
۔غیبت,چغلی,کینہ،حسدوبغض,وغیرہ سے نجات دیں اور حفاظت فرمائیں ۔

3.🔹 *دو رکعات صلوة الشکر*

ایک ایک نعمت کا نام لیکر شکر ادا کریں مثلا ایمان ,عزت,اولاد ,صحت ,مال وغیرہ.

4.🔹 *دو رکعات صلوة الحاجات*

کے بعد سب حاجات کے لیے دعائیں مانگیں۔دین و دنیا اور آخرت میں کامیابی کیلیے۔

اللہ کی رضا اورکلمہ طیبہ پر خاتمہ نصیب ہو.قیام قبر پرسکون اور قرآن کے نور سے منور ہو .

صالحین کے ساتھ حشر ہو .روزمحشر اللہ کے عرش کا سایہ نصیب ہو۔جنت الفردوس نصیب ہو۔بلا حساب کتاب,

جنت میں داخلہ نصیب ہو۔ حضور ﷺ کا ساتھ اور اللہ تعالی کا بے حجاب اور دائمی دیدار نصیب ہو۔

5.🔹 *دو رکعات نفل*
اس نیت سے کہ اس کا ثواب نبی کریم ﷺ کی ذات کو پہنچے,

اور اسکے بعد دعا مانگیں کہ اللہ آپ ﷺ کو مقام محمود پر پہنچائیں ۔آپ ﷺ کا دیدار اور شفاعت نصیب فرمائیں۔

خواب میں آپ ﷺ کی زیارت ہو۔آپ ﷺ کے دین پر چلنے والا بنائیں ۔آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے والا بنائیں ۔

جنت البقیع میں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہو۔قیامت کے دن آپ ﷺ کا فخر بنائیں ۔آپ ﷺ کے ہاتھوں جام کوثر پلائیں,

۔آپ ﷺ کے ساتھ جنت میں داخل فرمائیں اور جنت میں آپ ﷺ کے ساتھ گھر اور شب وروز کی معیت عطا فرمائیں۔

6.🔹 *دو رکعات نفل سب صحابہ کرام رضوان اللہ

اجمعین ,تمام تبع تابعین اور بزرگان دین کے لیے*

جن کے توسط سے ہم تک دین پہنچا. دعا کیجیے کہ اللہ انھیں اپنی شان کے مطابق اجر عظیم عطا فرمائیں۔

7.🔹 *دو رکعات نفل اپنے بہترین ازدواجی تعلقات کے لیے*

8.🔹 *اپنے ہر بچے کے لیے الگ الگ دو رکعات نفل پڑھ کر دعا مانگیں*

اگر وقت کی کمی ہے تو سب بچوں کے لیے دو رکعات نفل پڑھ کر خوب دعائیں مانگیں,

کہ اللہ ان کو اور انکی نسلوں کو ہر قسم کے فتنے جو آج ہیں یا جو مستقبل میں آئیں گے ان سے محفوظ رکھیں,

اور خاص طور پر ہر برائی سےھمارے بچوں کو بچا کر رکھیں ۔دجال کے فتنے سے محفوظ رکھیں,
.
بےداغ جوانی عطا ہو۔با حیا ہوں ۔خوب سیرت ہوں ۔بچیوں بچوں کے اچھے رشتوں کے لیے دعا کریں چاہے وہ گود ہی کے کیوں نہ ہوں۔

9.🔹 *دو رکعات نفل پڑھ کر والدین کے لیےدعا کریں*

10.🔹 *دو رکعات نفل نماز امت مسلمہ کے لیے*

پوری امت مسلمہ جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے ،جو ابھی ہیں اور جو آئیں گے ان سب کے لیے دعا کریں,

11.🔹 *دو رکعات نفل پڑھ کر آپکے خاندان میں جو لوگ کسی پریشانی کا شکار ہیں انکے لیے دعا کریں۔*

لازمی پڑھیں

12.🔹 *دو رکعات نفل حج اور عمرہ کی سعادت کے لیے دعا مانگیں*

13🔹 *آخر میں دو رکعات نفل عبادت کی قبولیت کے لیے*
یہ شکر ادا کرنے کے لیے کہ اللہ نے اس ساری عبادت کی توفیق دی اوراللہ اسکو قبول فرما لیں ۔

🌟 *قرآن کریم کی تلاوت*
جتنی ممکن ہو سکے۔

🌟 *صدقہ*🌟
چاہے ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔

🌟 *رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،

جو شخص شب قدر ایمان کے ساتھ محض ثواب آخرت کے لیے ذکر و عبادت میں گزارے ،

اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔*

شب قدر کی نشانی۔

شب قدر کی علامات میں یہ بھی ہے کہ اس صبح سورج طلوع ہو تو،

اس میں تمازت نہیں ہوتی۔ شب قدر معتدل نہ تو گرم اور نہ ہی سرد ہوتی ہے،

اس دن صبح سورج کمزور اور سرخ طلوع ہوتا یعنی تمازت نہیں ہوتی۔ (مسند ابو داؤد طیالسی

*مجھے بھی اپنی قیمتی دعاٶں میں یاد رکھیے گا*❤️

رابطے کے لیے

 

Total
0
Shares
8 comments
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Previous Post

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ ۔

Next Post

سورۃ فاتحہ اور اسکی فضیلت

Related Posts